18-08-2017

سپریم کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 4 میں ضمنی انتخابات روکتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جب تک منتخب نمائندوں کو نااہل کرنے کے بارے میں الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کا تعین نہیں کیا جاتا، عام انتخابات میں اس حلقے سے منتخب شوکت عزیز بھٹی کی نااہلیت برقرار رہے گی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ  فل بینچ نے نااہلیت کے فیصلے کے خلاف شوکت عزیز بھٹی کی اپیل کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت منتخب ارکان کو نااہل کرنے کا الیکشن کمیشن کا اختیار آئینی اور قانونی تشریح کا متقاضی ہے، جب تک عوامی نمائندگی کے قانون کی سیکشن 103اے کا آئین کی شق 225 کے تناظر میں جائزہ لے کر تشریح نہیں کی جاتی تب تک اپیل کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، چیف جسٹس پاکستا ن نے کہا کہ جس نے جعلسازی کی ہو وہ عوام کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتا لیکن الزام کی تفتیش کا فورم کون سا ہوگا اس کا تعین بھی ضروری ہے۔

چیف جسٹس نے آبزرویشن دی ہے کہ اختیارکے بغیر جاری حکم کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو مقررہ مدت کے بعد کسی منتخب رکن کو نااہل کرنے کا اختیار ہے بھی یا نہیں؟ زیر غورکیس کا تعلق اختیارکے تعین سے ہے جس کے فیصلے کا اثر نہ صرف اس مقدمے بلکہ اس نوعیت کے باقی مقدمات پر بھی ہوگا۔

عدالت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو شوکت عزیز بھٹی کے غیرملکی ڈپلومہ کی تصدیق کرنے کا حکم دیا اور اپیل کنندہ کو اپنی اصل اسناد ایچ ای سی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاونت کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت اکتوبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔