20-04-2018

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ادارے عمارتوں سے نہیں شخصیات سے بنتے ہیں جبکہ اب عدلیہ کے کام کرنے کا وقت آگیا ہے۔

جوڈیشل کمپلیکس چارسدہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب کے دوران  چیف جسٹس پاکستان  جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے کام کرنے کا وقت آگیا ہے، اب عدلیہ کو ڈلیور کرنا ہے، انصاف کی فراہمی عبادت اور اہم فریضہ ہے تاہم انصاف میں تاخیر کی وجہ نئے قوانین کا نہ بننا ہے جبکہ ادارے عمارتوں سے نہیں شخصیات سے بنتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو کئی دہائیوں سے انصاف نہیں ملا انہیں کیا جواب دوں گا، سپریم کورٹ میں آج بھی دہائیوں کے مقدمات زیر التوا ہیں، ایسے کیسز سن رہا ہوں جو 1985 میں دائر ہوئے تھے۔

ان کاکہنا تھا کہ ایڈہاک ازم پر چلنے والی قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں، قومیں لیڈرشپ اور جوڈیشل سسٹم سے بنتی ہیں جبکہ تعلیم کے بغیر کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، پرویز خٹک سے پوچھا کہ کتنے تعلیمی ادارے بنائے لیکن تسلی بخش جواب نہیں ملا۔