02-11-2017

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت شروع کی تو وکیل صفائی خواجہ حارث کی جونئیر وکیل نے وزیرخزانہ کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ عدالتی استفسار پر بتایا گیا مصروفیت کے باعث خواجہ حارث آج پیش نہیں ہوں گے۔ میڈیکل رپورٹ پڑھ کر سناتے ہوئے جونیئر وکیل نے کہا کہ ان کے موکل 3 سے 4 منٹ پیدل نہیں چل سکتے، انکی 3 نومبر کو لندن میں انجیو گرافی ہوگی۔ اس لئے عدالت حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔ نیب پراسیکیوٹر نے اسحاق ڈار کو حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹ تسلیم نہیں کی جا سکتی، اس میں کسی بیماری کا ذکر نہیں، گرفتار ملزمان کی انجیو گرافی بھی یہاں سے کروائی جاتی ہے اور یہ ایک نجی ڈاکٹر کی رپورٹ ہے، قانون کے مطابق میڈیکل رپورٹ ہائی کمیشن کے ذریعے موصول ہونی چاہیے تھی۔ نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ اسحاق ڈار کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں۔

عدالت نے نیب کو میڈیکل سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ملزم کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے۔