23-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ماتحت اسسٹنٹ پروفیسر کو ترقی سے محروم رکھنے کےلئے ٹیکنیکل ریویو کمیٹی کے رکن کو میبنہ طور پر رشوت کی پیش کش کرنے والے پروفیسر کے خلاف انکوائری رپورٹ سنڈیکیٹ کو پیش کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ڈاکٹر حفاظت اللہ کی جانب سے دائررٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ وہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور ان کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کی پوسٹ پر ترقی کے سلسلے میں ریسرچ پیپرز کا جائزہ لینے کےلئے ننگرہار اور علی گڑھ یونیورسٹیوں کے دو پروفیسرز کو ٹیکینکل ریویو کمیٹی رکن نامزد کیا گیا تاہم علی گڑھ یونیورسٹی کے پروفیسر کو شعبہ اسلامیات اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے پروفیسر نثار نے ایک ای میل بھجوایا جس میں انہیں ان پیپرز سے متعلق منفی ریمارکس دینے پر رشوت کی پیش کش کی اور اس پروفیسر نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو پروفیسر نثار سے متعلق شکایت ارسال کی جس پر وائس چانسلر نے فیکیٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی اور کمیٹی نے رپورٹ مرتب کر لی لیکن تاحال یہ رپورٹ سنڈیکیٹ کے سامنے نہیں رکھی گئی ۔