09-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں تھیالوجی اور عربیک کے لیکچرارز   اور اسسٹنٹ پروفیسر اسلاملک تھیالوجی کی پوسٹوں پر تقرری روک دی اور متعلقہ حکام سے جواب طلب کر لیا ہے ۔

جسٹس روح الاآمین خان اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پانچ درخواست گزاروں کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں دو ہزار تیرہ میں تھیالوجی اور عربک کے لیکچرارز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی پوسٹوں پر بھرتی کے لئے اشتہار جاری کیا گیا اور اس حوالے سے سارا عمل بھی مکمل ہوا اور سلیکشن کمیٹی نے تقرریوں کےلئے سفارشات سینڈیکیٹ کو بھجوائیں تاہم بعض من پسند افراد کو نوازنے کےلئے ان سفارشات کو سینڈیکیٹ نے واپس بھجوائیں اور بعد میں ایک مرتبہ پھر سلیکشن کمیٹی نے ان سفارشات کو ارسال کیں تاہم سینڈیکیٹ نے قرار دیا کہ فی الحال ان پوسٹوں پر بھرتی کی بجائے نیا اشتہار جاری کیا جائے ۔ عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ یہ اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے لہذا دوبارہ جو اشتہار جاری کیا گیا ہے جو کالعدم قرار دیا جائے۔