27-01-2017

پشاور ہائی کورٹ نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ایک سو بتیس مستقل درجہ چہارم ملازمین کی برطرفی کے خلاف دائر رٹ پر نئی بھرتیاں روک کر یونیورسٹی انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا ہے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اورجسٹس روح الاآمین خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نےیہ عبوری احکامات  اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ایک سو بتیس ملازمین کی جانب سے دائر رٹ درخواست پر جاری کئے ۔دائر رٹ میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزاروں کو دو ہزار تیرہ  میں باقاعدہ  اشتہار مشتہر ہونے کے بعد کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا اور جنوری دو ہزار سولہ میں انہیں مستقل  کردیا گیا تاہم بعد میں صوبائی اسمبلی نے ان کی بھرتیوں کو  سیاسی بنیادوں پر قرار  دیتے ہوئے انہیں فارغ کرنے کی ہدایت کی تھی اور اس کی روشنی میں یونیورسٹی کے مستقل ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے لہذا درخواست گزاروں کی برطرفی کالعدم قرار دی جائے ۔عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں نئے بھرتیاں روکتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ سے جواب طلب کر لیا۔