September 19, 2018

Khyber Pakhtunkhwa Judicial Academy, Peshawar
BROADCAST TIMING

Morning : 08:00AM to 11:00AM | Evening : 03:00PM to 07:00PM
Call Now: 091-9211654 | Email us: info@radiomeezan.pk

اسلام آباد کے صنعتی یونٹس سے متعلق 5 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم

14-09-2018

سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر آئی نائن میں قائم فیکٹریوں میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کئے گئے اقدامات سے متعلق 5 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد میں صنعتی اور ماحولیاتی آلودگی کیس کی سماعت کی۔ ڈی جی ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے لیے لفظ واچ ڈاگ استعمال کیا جاتا ہے لیکن آئی نائن کے فیکٹری مالکان نے ہمیں صرف ڈاگ بنا دیا ہے، فیکٹری مالکان انسپیکشن کے لیے ہمیں رسائی نہیں دیتے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ماحول کا ایشو لوگوں کی زندگیوں سے براہ راست منسلک ہے، لوگوں کی زندگیوں سے فیکٹری مالکان کو کھیلنے نہیں دوں گا، فیکٹری مالکان کو عدالت کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے، انسپکشن نہیں کروائیں گے تو ضمانت کی رقم 50 لاکھ روپے ضبط کر لیں گے اور جن فیکٹری مالکان نے ضمانت کی رقم جمع نہیں کرائی ان سے 8 فیصد سود کے ساتھ رقم وصول کریں گے۔سپریم کورٹ نے سیکٹر آئی نائن میں قائم فیکٹریوں کی جانچ پڑتال کے لیے ڈائریکٹر ایچ آر سپریم کورٹ کو معائنہ آفیسر مقرر کردیا، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ صنعتی زون کا معائنہ کر کے بتایا جائے کتنے صنعتی یونٹس فعال ہیں اور کتنے صنعتی یونٹس نے ابھی تک آلودگی روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے

Related posts