14-03-2017

سپریم کورٹ نے سینئر افسران کی ترقیوں سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت اور افسران کی تمام اپیلیں مسترد کردی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سینئر افسران کی ترقیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت بنچ کے رکن جسٹس مقبول باقر  نے ریمارکس دیئے کہ سلیکشن بورڈ نے بہترین افسران کو چھوڑ کر اپنے من پسند افراد کوترقی دی۔عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے وفاقی حکومت اور افسران کی درخواستیں مسترد کردیں اور کہا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 5 مئی 2015 کو سینٹرل سلیکشن بورڈ کے ہونے والے اجلاس میں سینکڑوں افسران کو ترقی دی گئی تھی لیکن 105 افسران کو ترقی نہیں دی گئی جس پر  15 مئی 2015 کو ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ تمام افسران کی ترقی کا کالعدم قرار دے کر سلیکشن بورڈ کو اجلاس دوبارہ بلایا جائے اور افسران کو میرٹ پر ترقیاں دی جائیں۔