02-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے پاکستانی ڈاکٹر سے شادی کرنے والی افغان خاتون ڈاکٹر  کو شہریت نہ دینے کے خلاف دائر رت پر وفاقی وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار کی اپیل پر تین ماہ میں فیصلہ کرے بصورت دیگر ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ  نے افغان خاتون ڈاکٹر  فاطمہ کبری کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزارہ کی تخت بھائی کے رہائشی ڈاکٹر  حماد سے چند سال قبل شادی ہوئی ہے کیونکہ دونوں کا پیشہ ایک ہے اور انہوں نےشہریت کےلئےسیٹزن شپ قانون کی دفعہ دس دو کے تحت درخواست دی لیکن تاحال اس پر فیصلہ نہیں ہوا جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس موقع پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ جس قانون کے تحت یہ خاتون شہریت مانگ رہی ہے اس میں واضع طور پر لکھا گیا ہے کہ پاکستانی خاتون سے شادی کرنے والے مرد کو ہی شہریت دی جا سکتی ہے ۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ یہ اپیل گزشتہ تین سالوں سے وزارت داخلہ کے پاس ہے اس پر فیصلہ کیا جائے ۔

عدالت نے تین ماہ کی مہلت دیتے ہوئے درخواست نمٹانے کے احکامات جاری کردیئے ۔