28-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے گیارہ سو جیرب نجی جائیداد کو گزشتہ تئیس سالوں سے مہاجر کیمپ کے طور پر استعمال کرکے اس کا معاوضہ ادا نہ کئے جانے کے خلاف دائر رٹ پر سیکرٹری سیفران اور افغان کمشنریٹ کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار کے خاندان نے انیس سو چرانوے میں حکومت کو گیارہ سو جیرب اراضی افغان مہاجرین کے کیمپ کے لئے دی تھی اور انہیں کہا گیا تھا کہ زمین کے عوض انہیں معاوضہ دیاجائے گاتاہم مہاجرین کے جانے کےبعد زمین تو انہیں واپس کی گئی لیکن اس کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے ۔