11-09-2017

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ناانصافی،افراتفری اورانارکی کی طرف لے جاتی ہے،ضروری ہے کہ قانون کی حکمرانی کوہرصورت برقراررکھاجائے۔

نئے عدالتی سال کے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ججزکوہرقسم کے اثرورسوخ سے آزادہوناچاہئے،انسانی حقوق سیل کے ذریعے 29ہزار 657شکایات نمٹائی گئیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھاکہ کوئی اتھارٹی یاادارہ آئین کیخلاف کام کرے توعدالتی نظرثانی کااختیارہے، عدلیہ آئین اورقانون کے مطابق انصاف فراہم کرتی ہے اورعدلیہ آئین وقانون کے مطابق بنیادی حقوق کے تحفظ کویقینی بناتی ہے

ان کا کہنا تھا کہ  عدلیہ آئین اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کرتی ہے اور آئین و قانون کے مطابق ہی بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ججز کو ہر قسم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے، کوئی اتھارٹی یا ریاستی ادارہ آئین کے خلاف کام کرے تو عدلیہ کوریویو کا اختیار ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین بالاتر ہے، تمام اداروں کواپنی ذمے داریاں آئین کے مطابق ادا کرنی چاہئیں۔