27-01-2017

پشاور ہائی کورٹ نے اورکزئی ایجنسی میں پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری سے متاثرہ قبائلی کی رٹ پر وفاق اور وزارت دفاع کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزار ملتان خان کی جانب سے رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ پچیس نومبر دو ہزار نو کو اورکزئی ایجنسی میں بمباری کی گئی جس کے نتیجہ میں اس کے خاندان کے آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے اور گھر بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا اور حکومت نے متوفیوں کے لواحقین کو فی کس تین لاکھ روپے کے حساب سے معاوضہ ادائیگی کر دی ہے تاہم گھر کا نقصان تاحال ادا نہیں کیا گیا لہذا گھر کے نقصان کی ادائیگی کے احکامات جاری کئے جائیں ۔

فاضل عدالت وزارت دفاع سے استفسار کیا کہ درخواست گزار کے گھر کو  دہشت گردوں کا ٹھکانہ قرار دے کر نشانہ بنایا گیا تھا یا حادثاتی طور پر گھر  نشانہ بنا جس پر وزارت دفاع نے مہلت طلب کی کہ اس حوالے سے پاکستان ایئر فورس سے جواب طلب کیا جائے گا ۔

عدالت نے رٹ درخواست کی سماعت ملتوی کردی اور جواب طلب کر لیا۔