23-06-2017

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود اوگرا ، نیپرا اور پی ٹی اے سمیت پانچ خودمختار ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے پر دائر توہین عدالت کی درخواست پر وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور جائنٹ سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو یکم اگست کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کردیئے ہیں عدالت نے کہا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔

جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں قائم بنچ نے  فریقین سے پانچ ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کے چھ جون کے نوٹی فیکیشن کے حوالے سے سمری کا ریکارڈ اور جواب بھی تین ہفتوں میں طلب کرلیا۔عدالت نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے خودمختار ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں اور ڈویژنوں کے ماتحت کرنے کے حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری نہیں لی تو بتایا جائے کہ کس کے کہنے پر چھ جون کو نوٹی فیکیشن جاری ہوا تاکہ اس کے خلاف کاروائی کی جاسکے ۔

فاضل عدالت نے سماعت یکم اگست تک ملتوی کری ۔واضح رہے کہ دائر رٹ میں موقف اپنایا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی میٹنگ دو مئی کو منعقد ہوئی جس کے ایجنڈے میں یہ معاملہ شامل نہیں تھا لیکن اس کے باوجود چھ جون دو ہزار سترہ کو دوبارہ نوٹی فیکیشن کا اجراء کر دیا گیا جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔