04-08-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ملک بھر کے ایئر پورٹس پر مسافروں کو سہولیات کی فراہمی کےلئے کام کرنے والی کمپنی کی رٹ پر وزارت دفاع کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل د ورکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار غیر ملکی کمہنی انیس سو تریانوے سے گراونڈ ہینڈلنگ سروس فراہم کر رہی ہے اور تیس مارچ دو ہزار سترہ کو سول ایوی ایشن کے ساتھ آئندہ پانچ سالوں کے لئے نیا معاہدہ ہوا تاہم پانچ جولائی دو ہزار سترہ کو وزارت دفاع کی جانب سے ائیر پورٹ سیکورٹی فورس کو ایک لیٹر موصول ہوا جس میں کہا گیا کہ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر گاڑیاں رن وے پر نہیں چلائی جا سکتی جس پر گاڑیاں روک دینے کے احکامات جاری کئے گئے جس کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا گیا اور عدالت نے انیس جولائی کو حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے وزارت دفاع کا لیٹر معطل کیا۔تاہم عدالتی حکم کے باوجود ایئر پورٹ کے رن وے پر گاڑیاں نہیں چھوڑی جا رہی ہیں جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔

عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر وزارت دفاع کو نوٹس جبکہ دو سری درخواست پر سول ایوی ایشن کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔