03-03-2017

پشاور کی احتساب عدالت نے ایجنسی فنزیکل سپروائزر  محکمہ تعلیم محمد اسماعیل پر غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی ہے تاہم ملزم نے صحت جرم سے انکار کر دیا جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر استعاثہ کے تین گواہوں کو عدالت طلب کر لیا ہے ۔

نیب خیبر پختنونخوا کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ وہ انیس سو انہتر میں محکمہ تعلیم میں بھرتی ہوا اور ترقی کرتے ہوئے ایجنسی فنزیکل سپروائزر کے عہدے تک پہنچ گیا تاہم اس دوران ملزم نے اپنی آمدنی سے زیادہ مالیت کے اثاثے بنائے جس میں ریگی ماڈل ٹاون ، چارسدہ روڑ ، راولپنڈی ، لکی مروت اور چارسدہ روڑ پر بارہ مختلف قسم کے فلیٹس ، پلاٹس اور گھر شامل ہیں اس طرح ان اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ  انیس لاکھ روپے بتائی جاتی ہے ۔