03-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کی سی این جی سٹیشنوں کے خلاف کاروائیوں کے خلاف دائر رٹ درخواست پر اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا ہے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مقامی سی این جی اسٹیشن کے منیجر کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ سوئی نادرن گیس اور ایف آئی اے کے اہلکاروں پر مشتمل ٹیم نے درخواست گزار کے سی این جی پمپ پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا ہے حالانکہ گیس ٹھیفٹ کنٹرول اینڈ ریکوری ایکٹ دو ہزار سولہ کے تحت ایف ائی اے کاروائی کی مجاز نہیں نہ ہی وہ کسی کے خلاف ایف آئی آر درج کر سکتی ہے کیونکہ فوجداری کیس کےلئے اس ایکٹ  کے تحت سوئی ناردرن گیس خصوصی عدالت گیس یوٹیلٹی کورٹ میں شکایت دائر کرے گی تاہم یہ عدالتیں تاحال قائم ہی نہیں ہوئیں اور یہ عدالتیں چیف جسٹس کی مشاورت سے وفاق قائم کرے گی جبکہ سوئی نادرن گیس ریکوری کےلئے بھی سول کورٹ میں کیس دائر کرے گی لہذا فاضل عدالت سےا ستدعا ہے کہ درج ایف آئی آر کالعدم قرار دیا جائے ۔