16-03-2017

سپریم کورٹ نے ایف بی آرافسران کی گریڈ 21سے 22میں ترقیوں کوکالعدم قراردیتے ہوئے ازسرنوپروموشن بورڈ کا اجلاس بلانے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں سپریم کور ٹ کے 3رکنی بینچ نے ایف بی آرکے گریڈ 21سے 22میں ترقیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس پاکستان نے وزیرخزانہ اسحاق ڈارکے سلیکشن بورڈ اجلاس میں شرکت پرحیرت کا اظہارکرتےہوئے کہا کہ اسحاق ڈاراورخواجہ ظہیراجلاس میں شرکت کے اہل نہیں تھے کس قانون کے تحت شریک ہوئے۔ بنچ کے رکن جسٹس اعجاز الحسن نے کہاکہ اسحاق ڈارکے پاس افسران سے متعلق کون سی معلومات تھیں جوچیئرمین ایف بی آرلاعلم تھے ۔

عدالت نے  ریمارکس دیئے کہ ترقی پانے والے افسران کے خلاف متعدد رپورٹس موجود تھی سینئرافسران کونظراندازکرنے کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی اجنبی لوگ موجود ہوں گے توایسے فیصلے ہوں گے ۔عدالت نے یکم اگست 2016 کے سلیکشن بورڈ اجلاس میں ایف بی آر افسران کی اگلے عہدوں میں ترقی کے فیصلے کوکالعدم قراردیتے ہوئے ایک ماہ میں بورڈ کا اجلاس بلا کرازسرافسران کی پروموشن کا جائزہ لینے  کا حکم دیا۔