06-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ایمرجنسی میں نجی ہسپتال سے علاج کرنے والے محکمہ معدنیات کے اہلکار کو علاج معالجہ کے اخراجات ادا کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس روح الاآمین خان اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ کچھ عرصہ قبل حیات آباد جاتے ہوئے درخواست گزار کو دل کا دورہ پڑا جس کے باعث اسے قریبی نجی ہسپتال لے جا یا گیا جہاں اس کے دل کا آپریشن ہوا اور اس پر پانچ لاکھ روپے کا خرچہ آیا تاہم اب محکمہ اسے علاج معالجے کے اخراجات ادا کرنے سے انکاری ہے اور ادارے کا موقف ہے کہ نجی ہسپتال سے علاج کرانے کے اخراجات حکومت ادا نہیں کرتی حالانکہ رولز کے مطابق کسی بھی ایمرجنسی کی صورتحال میں اگر نجی ہسپتال سے علاج کرایا جائے تو محکمہ تمام اخراجات برداشت کر سکتی ہے ۔