12-04-2018

پشاورہائی کورٹ نے این ٹی ایس کے ذریعے سرکاری اداروں میں بھرتیوں کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ، سیکرٹری تعلیم اور چیف ایگزیکٹو این ٹی ایس کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ہے۔

جسٹس محمد ایوب پر مشتمل پشاورہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ میڈیکل کالجوں ، یونیورسٹیوں سمیت سرکاری اداروں میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتیاں کی جارہی ہیں حالانکہ دوہزارآٹھ سے دو ہزار چودہ تک این ٹی ایس کا ادارہ رجسٹرڈ نہیں تھا اوراس دوران اس کے ذریعے لوگوں سے اربوں روپے وصول کئے گئے اور چیف ایگزیکٹو این ٹی ایس پر تین ہزار ملین روپے کرپشن کا الزام ہے اور ستائیس ہزار ملین روپے محکمہ انکم ٹیکس کا ناھندہ ہے لہذا این ٹی ایس کے گھپلوں کا نوٹس لے کر اس پر پابندی عائد کی جائے اور سرکاری اداروں میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتیوں میں مبینہ گھپلوں کا نوٹس لیا جائے ۔