24-05-2017

پشاور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کے ایک کیس میں عدالت میں عدم پیشی پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا ، سیکرٹری فنانس اور ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کے خلاف قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے تیرہ جون کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

جسٹس یونس تہیم اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے دائر توہین عدالت رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایف آر بنوں کے مختلف علاقوں میں تیرہ سول ڈسپنسریاں قائم کی ہیں جس پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن اس میں ابھی تک کلاس فور ، دائی میڈیکل ٹیکنیشنز اور چوکیدار کا عملہ تعینات نہیں کیا گیا جس سے قائم ڈسپنسریاں خستہ حال ہوتی جا رہے ہیں ۔ عدالت کوبتایاگیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اٹھارہ فروری دو ہزار سترہ کو تمام سول ڈسپنسریوں میں عملہ تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے لیکن ان احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ متعلقہ حکام کو بار بار نوٹس جاری کرنے اور بذات خود عدالت میں پیش ہونے کے احکامات بھی جاری کئے گئے لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے ہیں ۔