18-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی پوسٹ کےلئے پانچ سال کے وکالت ناموں کی شرط کالعدم قرار دے دی ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی نے ایبٹ آباد کے وکلاء کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں نو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی تقرری کےلئے اشتہار جاری کیا جس کےلئے پانچ سال کے وکالت ناموں کی شرط عائد کی گئی ہے جس کے باعث بہت سارے وکلاء متاثر ہو ئے ہیں اور وہ ان پوسٹوں کےلئے درخواست دینے سے محروم رہ گئے ہیں جبکہ پانچ سال کے وکالت ناموں کی شرط غیر قانونی اور غیر آئینی ہے کیونکہ یہ شرط خیبر پختونخوا جوڈیشل سروسز رولز دو ہزار ایک کے منافی ہے لہذا یہ شرط ختم کی جائے ۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر دائر رٹ پٹیشن منظور کر لی اور پانچ سال کے وکالت ناموں کی شرط کالعدم قرار دے دی ۔