09-08-2017

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ اے ڈی آر سسٹم دنیا میں رائج جدید ترین نظام ہے، جس سے مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد مل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی عدلیہ میں لاکھوں کی تعداد میں زیر التواءمقدمات کو روائتی انداز میں نمٹانا ممکن نہیں، اس کےلئے جدید طریقوں سے استفاد ہ وقت کی اہم ضرورت ہے، عدلیہ کو مضبوط کرنا ہماری سب کی ذمہ داری ہے اور اس کے  لئے اپنا حصہ ڈال رہا ہوں۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا  بار بہاولپور بنچ سے خطاب میں کہنا تھا کہ ہمارے ہاں کاروبار کرنے والے حضرات مقدمہ بازی میں پھنسے ہیں، خاندانی مقدمات میں التواءسے ہمارا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصالحتی نظام کی بدولت گھر آباد ہورہے ہیں، کاروباری حضرات کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے ڈی آر کا نظام وکلاءکے لئے بھی فائدہ مند ہے، سالہاسال مقدمات کو لے کر نہیں چلنا پڑے گا، پندرہ بیس  روز میں مقدمہ نمٹائیں اور نیا مقدمہ لے لیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ بار اور بنچ لازم و ملزوم ہیں لیکن ہمارے درمیان آئے روز مسائل جنم لیتے رہتے ہیں لیکن ہم نے اپنے تمام مسائل کو مل بیٹھ کر اور گفت و شنید سے حل کرنے ہیں۔