18-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے بارودی مواد رکھنے کے الزام  پر چوراسی سال قید بامشقت اور جائیداد ضبطگی کی سزا پانے والے تین ملزمان کی اپیل منظور کرکے ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے ۔

جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس قلندر علی خان پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے خیبر ایجنسی کے رہائشی ملزمان عمران ، فرید اللہ اور علی خان کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ ملزمان کو محکمہ انسداد دہشت گردی کوہاٹ نے گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بارودی مواد برآمد کیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کوہاٹ نے جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو فی کیس مجموعی طور پر اٹھائیس سال قید اور ان کی جائیداد ضبط کرنے کے احکامت جاری کئے ۔ دائر اپیل پر وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فاضل عدالت نے ملزموں کی اپیلیں منظور کر لی ۔