28-08-2017

بلدیاتی انتخابات کے تنازعات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فورم کو ختم کردیا گیا ہے اور اب ہائی کورٹ  کا فیصلہ ہی حتمی ہوگا ۔

چاروں صوبوں میں نئے انتخابی قوانین کے مطابق آئندہ بلدیاتی انتخاب کے امیدواروں کو الیکشن ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے حق سے محروم کردیا گیاہے ۔ماضی میں الیکشن ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف بلدیاتی انتخاب کو چیلنج کرنے والے لوگ سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے تھے لیکن نئی اصلاحاتی قانون کے مطابق ہائی کورٹ کے فیصلہ کو حتمی قرار دیا گیا ہے تاکہ سپریم کورٹ  میں مقدمات کا بجھ کم کیا جاسکتے ۔ نئے انتخابی قوانین کے شق ایک سو پچپن کے تحت قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار الیکشن ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کرنے کا قانونی حق رکھتے ہیں جبکہ بلدیاتی انتخاب میں امیدوار انتخابی نتائج کا ابتدا ء میں سیشن جج کی عدالت میں چیلنج کرے گا پھر سیشن جج کے فیصلوں کو متعلقہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے گا اور ہائی کورٹ  کے فیصلہ کو ہی حتمی فیصلہ قرار دے کر مزید اپیل سپریم کورٹ نہ کی جا سکے گی ۔ نئے قوانین کے مطابق کسی بھی انتخاب کو کالعدم قرار دینے کےلئے الیکشن ٹربیونل کو وجوہات بھی بتانا ہوں گی جبکہ اپیل خارج کرتے وقت جیتنے والے امیدوار کی کامیابی بارے وجوہات اور دستاویزاتی ثبوت بھی دینے کی ذمہ داری الیکشن ٹربیونل پر ہوگی ۔