07-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے تیراہ خیبر ایجنسی میں پاکستان ایئر فورس کی بمباری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد کے جاں بحق ہونے پر دیدت  اور معاوضے کی ادائیگی کے لئے دائر رٹ درخواست پر جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو ایک ماہ کے اندر دیت ادا کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لانے کی تنبہ بھی کی ہے ۔

جسٹس قیصر رشید اورجسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے درخواست گزار خان ولی کوکی خیل کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ  تیراہ میں چوبیس جولائی دو ہزار سترہ کو پی اے ایف کے طیاروں نے مڈنائٹ آپریشن کے دوران بمباری کی جس کے نتیجے میں ان کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا جس سے درخواست گزار زخمی اور ان کی اہلیہ ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں جاں بحق ہو گئی جبکہ ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور بعدمیں اسے غلطی قرار دیا گیا لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ اسے قتل امد قرار دے کر متاثرہ گھرانے کو دیت اور معاوضہ  ادا کی جائے اور واقعہ کی انکوائری کرکے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے ۔