04-08-2017

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ہے کہ بنچ اور بار دونوں اللہ کے سامنے انصاف کی فراہمی کےلئے جوابدہ ہیں اور ان کے درمیان بہترین تعلق کا ر کے ذریعے ہی قانون کی بالادستی اورانصاف کی فراہمی ممکن ہوگی  جبکہ  اس سلسلے میں انقلابی بنیادوں پر قدم اٹھائے جا رہے ہیں ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی نے ڈسٹرکٹ کورٹس چترال  اور بار روم کے دورہ کے موقع پر وکلاء اور ججز سے اپنے خطاب میں کہا کہ  میرٹ کی عملداری میں ہر قسم کی رکاوٹ ہٹا دی گئی ہے  ۔انہوں نے کہا کہ جلد انصاف کی فراہمی ہر کسی کا حق ہے لیکن شہری علاقوں میں زندگی کی بنیادی سہولیات ہونے کی بناء پر اسے فوری محسوس نہیں کیا جاسکتا مگر چترال ، کوہستان اور دیگر دور دراز واقع علاقے کے عوام کو اس سلسلے میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے ۔جسٹس یحیی آفریدی نے وکلاء کو یقین دلایا کہ ان کےلئے لائبریئری کا انتظام کیاجائے گا جس سے جونیئر وکلاءبھر پور فائدہ اٹھا سکیں گے جبکہ زیر تعمیر جوڈیشل کمپلیکس چترال میں صوابی کمپلیکس کی طرز پر وکلاء کو سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔

ان کا کہنا تھا کہ ینگ لائرز کو لائسنس کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرکے لائسنس کے اجراء میں آسانی پیدا کی جائے گی ۔اس سے قبل چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ہائی کورٹ چترال سرکٹ بنچ میں تین مقدمات کی سماعت کی اور ان پر فیصلے صادر کئے۔