08-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بیک وقت دو سرکاری رہائش گاہیں رکھنے والے سرکاری افسروں سے اس مدت کی ریکوری نہیں کی جا سکتی جس وقت کےلئے انہیں دو رہائش گاہیں رکھنے کے حوالے سے رعایت دی گئی تھی ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کور ٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سابق کمشنر کوہاٹ  خالد عمر زئی سمیت دو اعلی صوبائی افسروں کی جانب سے دائر رٹ درخواست  کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار گریڈ بیس کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور دہشت گردی کی لہر کے باعث حکومت نے دو ہزار بارہ میں اعلی افسروں کو یہ رعایت دی تھی کہ وہ پشاور اور متعلقہ ریجن یا ضلع میں بیک وقت دو سرکاری رہائش گاہیں رکھ سکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر افسران امن و امان کی ابتر صورتحال کے باعث ڈیوٹی والے اضلاع میں اپنے خاندان کو نہیں لے جا سکتے تھے ۔ تاہم جب دو ہزار تیرہ میں نئی حکومت آئی تو اس نے پانچ جولائی دو ہزار تیرہ کو یہ رعایت ختم کر دی اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ بیک وقت دو سرکاری رہائش گاہیں رکھنے والے افسروں سے کمرشل بنیادوں پر ہاوس رینٹ  بھی وصول کیا جائے گا اور درخواست گزاروں کو اس مدت کا بھی ریکوری کا نوٹس موصول ہوا جب سرکاری طور پر یہ رعایت انہیں حاصل تھی ۔عدالت نے دلائل کے بعد قرار دیا کہ جس تاریخ سے یہ پالیسی نافذہوئی اسی تاریخ سے یہ نافذ العمل تصور ہوگی ۔ ان آبزرویشن کے ساتھ ہی فاضل عدالت نے دائر رٹ پٹیشن نمٹا دی ۔