11-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے تحصیلدار پشاور عادل وسیم کے نیب کے ہاتھوں ممکنہ گرفتاری روکتے ہوئے اس کی ضمانت قبل از گرفتاری کی توثیق کر دی ہے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس یونس تہیم پر مشتمل پشاو رہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار دو ہزار چودہ میں پشاور میں بحیثیت تحصیلدار تعینات تھا اور ورکرز ویلفیئر بورڈ نے شاہی بالا میں زمین خریدی اور درخواست گزار کو بھی اس کیس میں ملزم نامز د کیا گیا ہے کہ انتقالات میں قانونی طریقہ کار کو نہیں اپنایا گیا حالانکہ اس کیس کے دیگر ملزمان پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں لہذا درخواست گزار کو بھی ٹرائل کورٹ  میں اپنا کیس ٹرائل کرنے کی اجازت دی جائے اور ان کی ضمانت منظور کی جائے ۔

فاضل عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر درخواست گزار کی ضمانت قبل از گرفتاری کی توثیق کرتےہوئے اسے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔