22-02-2017

خیبر پختونخوا کی وکلاء برادری نے چار سدہ کی تحصیل تنگی میں کچہری پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آج صوبہ بھر کی اعلی و ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور وکلاء تنظیموں کے زیر اہتمام مذمتی اور احتجاجی اجلاس منعقد ہوئے ۔

خیبر پختونخوا بار کونسل اورپشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پر پشاور سمیت صوبہ بھر میں وکلاء نے تنگی کورٹس خودکش حملوں کے خلاف عدالتی امور کا مکمل بائیکاٹ کیا ، وکلاء عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کےلئے پیش نہیں ہوئے اور باررومز اور دیواروں پر سیاں جھنڈے لہرائے گئے وکلاء تنظموں کے رہنماوں نے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عدلیہ پر وار قرار دیا ۔

وکلاء نے حکومت سے دہشت گردی پر قابو پانے کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے اور ججوں اور وکلاء کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔ وکلاء تنظیموں نے دہشت گردانہ حملے کو غیر انسانی اور بزدلانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس قسم کے حملوں سے ان کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے ۔

وکلاء برادری نے پولیس کی جانب سے بہادری کا مظاہرہ کرنے اور حملے کو ناکام بنانے پر خیبر پختونخوا پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی  کے خلاف جنگ میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز  کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں

۔واضح رہے کہ منگل کوضلع چارسدہ کی تحصیل تنگی کی کچہر ی پر دہشت گردانہ حملے کے نتیجہ میں آٹھ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے جبکہ سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں خود کش حملہ آوروں کی عدالتی احاطہ میں داخلے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے  تینوں کو  کوہلاک کر دیا تھا ۔