08-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے مختلف بڑے ترقیاتی منصوبے بغیر ٹینڈر کے سرکاری اداروں کو جاری کرنے کے خلاف حکم امتناعی میں توسیع کر تے ہوئے صوبائی حکومت کو اپنا جواب اگلی سماعت سے قبل داخل کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

آل پاکستان کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت  کی پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی نے جو رولز وضع کئے ہیں اس کے تحت وزیر اعلی اور صوبائی حکومت کو یہ اختیاردیا گیا ہے کہ وہ بغیر ٹینڈر کے کسی کو بھی ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے دے سکتے ہیں اور اسی قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبائی حکومت نے صوبے کے بڑے منصوبوں کے ٹھیکے این ایل سی ، ایف ڈبلیو اور دیگر سرکاری اداروں کو دیئے ہیں جس سے یہ ٹھیکدار متاثر ہو رہے ہیں لہذا اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے ۔

صوبائی حکومت کے وکیل نے اس ضمن میں جواب داخل کرنے کےلئے مہلت طلب کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے جاری حکم امتناعی میں توسیع کرکے سماعت اگلی تاریخ تک ملتوی کردی۔