12-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں آئی جی پولیس خیبر پختونخوا حکم دیا ہے کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو ان  کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

دائر رٹ درخواست میں درخواست گزاروں نے موقف اپنایا کہ انہیں نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اے ایس آئی پوسٹوں پر میرٹ کے مطابق ٹیسٹ و انٹرویوز پاس کئے جس کی کمشن نے باقاعدہ میرٹ کے مطابق فہرست بھی جاری کی ہے لیکن ان کی عمریں کچھ زیادہ ہیں اسی لئے انہیں نظر انداز کیا گیا جبکہ ان سے زیادہ عمرکے امیدواروں کی تقرری کی گئی جو کہ ناانصافی ہے ۔عدالت کو بتایا گیا کہ عدالت نے ان کی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کو ان کی تقررنامے جاری کرنے کے احکامات جاری کئے لیکن تاحال ان کے تقررنامے جاری نہیں کئے گئے جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔