06-04-2017

پشاورہائی کورٹ نے تخت بھائی پولیس کی جانب سے ایک کیس کی انکوائری شروع کرنے کے باوجود جسٹس آف پیس کی جانب سے اسی کیس میں ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات کرنے کے خلاف دائر رٹ پر متعلقہ فریق سے جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائررٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار محمد اکرام  تخت بھائی میں سرکاری ملازم ہے جس کے حجرے پر ظفر ، عبد الولی اور عبدالرحمان کے مابین رقم کے تنازعہ پر جرگہ ہوا تھا او ر بعض امور طے پائے تھے تاہم بعد میں ظفر نامی شخص نے تخت بھائی پولیس کو درخواست دی کہ درخواست گزار کے حجرے میں اس کی گاڑی، پاسپورٹ اور موباِئل فون چھینا گیا حالانکہ انہوں نے باہمی رضامندی سے قرض اتارنے کے لئے یہ اقدام اٹھایا جبکہ بعد میں تخت بھائی پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے باقاعدہ انکوائری کی اجازت لے کر تحقیقات شروع کی جبکہ ظفر نامی شخص نے جسٹس آف پیس کے تحت عدالت میں درخواست دائر کی جو منظور ہو گئی حالانکہ تفتیشی عمل کے دوران ایف آئی آر کے اندراج کا کوئی جواز نہیں بنتا لہذا اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے ۔عدالت نے دلائل کے بعد متعلقہ فریق کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔