07-11-2017

سپریم کورٹ نے  اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے جسٹس شوکت صدیقی کے کیس کی سماعت کی تو ان کے وکیل کی جانب سے جوڈیشل کونسل کی کاروائی روکنے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ٹکڑوں کی بجائے کیس کو مکمل سننا چاہتے ہیں، یہ ایسا مقدمہ نہیں جس میں حکم امتناع دے کر مقدمہ دفن کر دیا جائے۔ بنچ کے رکن جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم مقدمے کو لٹکانے کی بجائے جلد سن کر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے۔جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے بطور ادارہ بھی ضروری ہے کہ کیس کا فیصلہ کریں، جب نائب قاصد کے خلاف انکوائری ہو تو آرٹیکل 10 اے کا نفاذ ہوتا ہے، نائب قاصد اور جج دونوں کے خلاف ایک ہی قانون کے تحت کارروائی ہو گی، ہم آزاد عدلیہ ہیں، کیس میں ایک سو ایک سوالات ایسے ہیں جن کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔