09-11-2017

سپریم کورٹ  نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ سننے سے متعلق اٹارنی جنرل پاکستان سے 2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ہے۔جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ  مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور عوامی مفاد کا مقدمہ ہے اور اس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ شاہد حامد اور منیر اے ملک کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالتی معاون مقرر کیے ہیں۔

واضح رہے ک کپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی کے کچھ سابق ملازمین کی جانب سے شکایت کی گئی تھی کہ جسٹس شوکت صدیقی نے مبینہ طور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔اس پر جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے بعد خود کو اوپن ٹرائل کے لیے پیش کردیا تھا۔