جعلی زرعی پاس بک پر قرضے نکالنے والے بینک سابق ملازمین خلاف ریفرنس

26-07-2017

نیب خیبر پختونخوا نے پشاور کی احتساب عدالت میں تحصیل سرائے نورنگ بنک پرانچ لکی مروت سے جعلی زرعی پاس بک کے ذریعے قرضے نکانے والے بینک کے سابق چھ اہلکاوں اور پٹواری سمیت سات ملزمان کے خلاف سات کروڑ پندرہ لاکھ روپے مالیت کا  ریفرنس دائر کر دیا ہے ۔

نیب خیبر پختونخوا کے مطابق بینک کے سابق منیجر خورشید ، سابق اسسٹنٹ منیجر بن یامین ، سابق موبائل کریڈٹ آفیسر او جی ٹو سجاد، سابق او جی ون زری گل ، دو سابق ٹیلر اور سینئر اسسٹنٹ رحمت اللہ اور فیا سمیت سابق پٹواری موضع برگری حلقہ والی فرید اللہ خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ملی بھگت سے جعلی زرعی پاس بک بنواکر تین سو زمینداروں کے فرضی ناموں پر سال دو ہزار آٹھ سے دو ہزار بارہ کے دوران قرضہ نکالا تھا جو زمینداروں کو ٹیوب ویل اور دیگر زرعی مشینوں کے خریداری کےلئے تھا لیکن بینک آڈٹ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ساری زمین شاملات تھی اور وہاں زمینداروں کے نام کوئی زمین نہیں تھی جس پر نیب نے سکینڈل کی تحقیقات مکمل کرکے ملوث اہلکاروں کے خلاف پشاور کی احتساب عدالت میں سات کروڑ پندرہ لاکھ روپے کا ریفرنس دائر کر دیا جس کی سماعت آئندہ ہفتے متوقع ہے ۔