28-07-2017

پشاور ہائی کورٹ نے شیوہ صوابی میں جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کو بے گناہ قتل کرنے کے الزام میں انسپکٹر ہارون کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزم انسپکٹر کی جانب سے ایف آئی آر کے خلاف دائر رٹ خارج کردی ۔

جسٹس لال جان خٹک اور جسٹس عبد الشکور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ دو ہزار پندرہ میں صوابی شیوہ میں پولیس مقابلے میں بشیر خان کو مارا گیا  ۔ بعد میں مقتول کی والدہ نے مقامی عدالت میں بائیس اے کی درخواست دائر کی جس پر عدالت نے انسپکٹر ہارون کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا اس فیصلے کا کالعدم قرار دیا جائے

مدعی کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نوجوان کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا یہ مقابلہ نہیں بلکہ نوجوان کو مخالفین کی ایماء پر گرفتار کیا گیا اور بعد میں اسے قتل کیا گیا ۔

فاضل عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ملزم پولیس انسپکٹر کی درخواست مسترد کر دی اور اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔