30-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پنجم اور ہشتم جماعت کے امتحانات تعلیمی بورڈ کے ذریعے کرانے کے اقدام پر صوبائی حکومت ، سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن اور تمام تعلیمی بورڈز کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیاہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے جماعت پنجم اور ہشتم کے سالانہ امتحانات بورڈز کے ذریعے کرانے کا کہا ہے تاہم حکومتی اعلامیہ بغیر کسی قانون سازی کے جاری کیا گیا ہے جس کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ سرکاری گزٹ میں بھی اس کی اشعت نہیں ہوئی ہے اور یہ صرف چند افراد کا فیصلہ ہے جو صوبہ بھر کے سکولوں پر لاگو کیا جارہا ہے اور اس فیصلے سے لاکھوں کی تعداد میں طلباء متاثر ہوں گے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔

فاضل عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔