11-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے جی پی او کے ملٹری پنشن سکینڈل میں ملوث خاتون کلرک نزہت بیگم اور نعمت اللہ کو نیب کے تیسرے ریفرنس سے بری الذمہ قرار دے دیا ہے ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار جی پی او میں کلرک تعینات تھے جن پر جی پی او میں ملٹری پنشن کے خوردبرد کا الزام تھا اور نیب نے دو ریفرنس ان کے خلاف احتساب عدالت میں دائر کئے تھے جن میں عدالت نے دو ہزار سات میں قید و جرمانہ کی سزا سنائی تاہم آٹھ سال بعد نزہت بیگم کے خلاف تیسر اور نعمت اللہ کے خلاف دوسرا ریفرنس دائر کیا گیا حالانکہ نیب قوانین کی شق سترہ ڈی ، ضابطہ فوجداری کی دفعہ چار سو تین اور آئین کے آرٹیکل تیرہ کے تحت ایک فرد کو دوبار گرفتار نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی دوسرا ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے جبکہ ایک ہی ریفرنس میں ضمنی ریفرنس لائے جا سکتے ہیں لیکن دوسرا ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا ۔ عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ پشاور کی احتساب عدالت تیسرے ریفرنس میں دو سو پینسٹھ کے تحت دائر درخواست خارج کر چکی ہے لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ احتساب عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست گزاروں کو نئے ریفرنس سے بری الذمہ قرار دیا جائے ۔