30-05-2017

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی پر حسین نواز کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم کو آزادی غیر جانبداری اور طرف داری کے بغیر تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کی تفتیش کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی ) کے 2 ارکان پر وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز شریف  کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم کو آزادی غیر جانبداری اور طرف داری کے بغیر تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے اور ریمارکس دیے کہ ٹھوس ثبوتوں کے بغیر کسی رکن کو نہیں  نکالا جائے گا، محض اعتراضات پرجے آئی ٹی تبدیل ہو تو پھر ، تفتیش کے لئے فرشتے لانا پڑیں گے۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر شخص کو عزت و تکریم دی جائے، وزیراعظم ہو یا عام شہری کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں جبکہ عدالت جے آئی ٹی کی پیشرفت بارے دوسری رپورٹ کا جائزہ 7جون کو لے گی۔