16-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے حطار صنعتی بستی کے مختلف کارخانوں سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی وصولی روک دی اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیاہے ۔

جسٹس قیصر رشید اور جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل دو رکنی دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ اکتیس مئی دو ہزار سترہ کو فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں جی آئی ڈی سی کو قانونی قرار دیا گیا ہے چونکہ یہ گیس کے ماہانہ بلوں میں وصول کیا جاتا ہے اور گزشتہ ایک سال سے حکم امتناعی کے ذریعے صنعتی یونٹس کے مالکان اسے ادا نہیں کر رہے تھے اس بناء پر اس فیصلے کے بعد گیس حکام ممکنہ طور پر اسے موجودہ مہنے کے گیس بلوں میں شامل کریں گے جس کی یکمشت وصولی سے  صنعتی یونٹس پر شدید بحران آئے گا ۔