10-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے تریانوے دیر کے ترقیاتی فنڈز میں مبینہ امتیازی سلوک  برتنے پر  سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور سیکرٹری آبپاشی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے رکن صوبائی اسمبلی صاحبزادہ ثناء اللہ کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار دیر بالا کے حلقہ سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوا اور صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف سے تعلق رکھتا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی نے دیر کے مختلف حلقوں کے لئے ترقیاتی فنڈ ز مختص کئے ہیں جن کی مجموعی مالیت ایک ہزار پچاس ملین روپے بنتی ہے لیکن درخواست گزار کے حلقے پی کے تریانوے  کےلئے دس فیصد سے بھی کم حصہ رکھا گیا ہے لہذا فنڈز کے غیر منصفانہ تقسیم کو کالعدم قرار دیا جائے ۔

عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد  صوبائی حکومت کے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا۔