05-07-2017

پشاور ہائی کورٹ نے رکن صوبائی اسمبلی حلقہ پی کے ون پشاور ضیاء اللہ آفریدی کی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مختص منصوبے منسوخ کرنے پر صوبائی اسمبلی سے ریکارڈ طلب کر لیا ہے

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس عبد الشکور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ دو ہزار پندرہ سولہ میں درخواست گزار کی نو سو ستر ملین روپے مالیت کی ترقیاتی سکیمیں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل تھیں تاہم بعد میں یہ سکیمیں منسوخ کر دی گئیں اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے دس جون دو ہزار سولہ کو نظر ثانی کے اجلاس میں یہ سکیمیں بلاجواز طور پر ڈراپ کر دیں لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ ان منصوبوں کو بحال کیا جائے ۔

دوران سماعت عدالت کوبتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے جو کمنٹس عدالت میں داخل کئے ہیں ان کے تحت ان منصوبوں کو صوبائی اسمبلی نے ڈراپ کیا ہے ۔جس پر فاضل عدالت نے صوبائی اسمبلی سے چھ جولائی تک جواب طلب کر لئے کہ کن وجوہات کی بناء پر یہ سکیمیں منسوخ کی گئیں ۔