19-01-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ہنگو کی رہائشی بیوہ خاتون کو بچوں سمیت کرائسز سنٹر منتقل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بچے ایک ہفتہ تک والدہ کے ساتھ رہیں گے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر درخواست کی سماعت کی جس میں بتایا گیا کہ درخواست گزارہ کے شوہر کو قتل کر دیا گیا ہے جبکہ اسکے بچوں کو اس کے دیور نے اپنے پاس غیر قانونی طور پر رکھا ہوا ہے اور اس کی جان کو خطرہ ہے اس بناء وہ کرائسز سنٹر حیات آباد پشاور میں مقیم ہے لہذا عدالت سے استدعا ہے کہ اس کے بچوں کو اس کے دیور کی تحویل سے لے کر اس کے حوالے کیا جائے ۔

دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اور ایس ایچ او تھانہ ہنگو نے عدالت میں موقف اپنایا کہ عدالتی احکامات کے تحت بچے عدالت میں موجود ہیں جس پر فاضل عدالت نے بچوں کی والدہ سے ملاقات کراتے ہوئے احکامات دیئے کہ بچے ایک ہفتہ تک کرائسز سنٹر میں والدہ کے ساتھ رہیں گے اور ہفتہ بعد بچوں کی رائے کے بعد فاضل عدالت فیصلہ کرے گی کہ بچے کس کے ساتھ رہیں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔