26-01-2017

پریم کورٹ نے خاتون کو شناختی کارڈ جاری نہ کرنے کے حوالہ سے نادرا کے خلاف از خود نوٹس کیس میں عدالت نے ایڈوکیٹ عاصمہ جہانگیر کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے معاونت طلب کی ہے کہ آیا کسی خاتون کے مرحوم شوہر کا شناختی کارڈ منسوخ ہونے کے بعد اس خاتون کی دوسری شادی کے باوجود پہلے شوہر کے نام پر خاتون کا شناختی کارڈ بنایا جا سکتا ہے یا نہیں ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے درخواست گزار ہ کرن کی درخواست پر لئے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔نادرا کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کرن کے بھائی نے اس کے پہلے شوہر عمران کو دبئی میں قتل کر دیا تھا اور اس وقت وہ اسی جرم میں جیل میں قید ہیں جبکہ سول عدالت کرن کا مقتول عمران سے نکاح نامہ منسوخ کر چکی ہے اس صورتحال میں نادرا انہیں مقتول شوہر کے نام پر شناختی کارڈ جاری نہیں کر سکتا ہے اگر درخواست گزارہ چاہتے تو اس کے والد یا دوسرے شوہر کے نام سے شناختی کارڈ جاری کیا جا سکتا ہے ۔عدالت نے اس ضمن میں معاونت طلب کرتے ہوئے  از خود نوٹس کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی ۔