06-04-2017

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ خواتین کی خریدوفروخت کامعاملہ گھمبیرہے ، اگرخواتین کی سمگلنگ نہیں ہورہی تو سنسنی کیوں پھیلائی گئی ؟بعض اندرونی و بیرونی عوامل پاکستان کوبدنام کرنے کے لیے ایسے معاملات اٹھاتے ہیں ۔

چیف جسٹس  ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے عورتوں کی خرید و فروخت سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ عدالت نے سینئر وکیل عاصمہ جہانگیرکو عدالتی معاون مقررکردیا۔چیف جسٹس پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ خواتین خریدوفروخت کے معاملے میں پولیس کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، اگرخواتین کی اسمگلنگ ہورہی ہے تو یہ انتہائی خطرناک بات ہے، پولیس نے تو کہہ دیا کہ عورتوں کی اسمگلنگ کا کوئی وجود نہیں، مگر معاملے میں کچھ آزادانہ رائے بھی سامنے آنی چاہئے۔ عدالت نے ہدایت جاری کی کہ فرزانہ  نامی خاتون کوافغانستان سے پاکستان لانے کی کوششیں کی جائیں، عدالت نےعورتوں کی خریدوفروخت سے متعلق خبر شائع کرنے والے صحافی کونوٹس جاری کرکے مقدمے کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔