25-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کو دفاتر اور دیگر کام کرنے والے جگہوں میں خواتین کو ہراساں کرنے کی شکایات کے ازالے کےلئے دو ماہ کے اندر صوبائی محتسب مقرر کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

جسٹس قیصر رشید اورجسٹس غضنفر علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور اس نوعیت کی شکایات کےلئے خاتون محتسب مقرر کرنے کےلئے قانون سازی ہو چکی ہےاور دیگر صوبوں میں خواتین کی شکایات کے ازلےکے لئے خاتون محتسب موجود ہیں تاہم خیبر پختونخوا میں صوبائی محتسب کی تقرری تاحال عمل میں نہیں لائی جا سکی لہذا صوبائی حکومت کو صوبائی محتسب مقرر کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں ۔ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے تمام امور طے کر چکی ہے اور ان شکایات کے سننے کے لئے صوبائی محتسب کو اختیار تفویض کرنا چاہتی ہے تاہم خواتین کمیشن نے اس پر اعتراض اٹھایا ہے کہ خواتین کے امور نمٹانے کےلئے خاتون محتسب کو مقرر کیا جائے جبکہ ایک ماہ کے اندر صوبائی محتسب کی تقرری عمل میں لائی جائے گی ۔

فاضل عدالت نے دائر رٹ نمٹاتے ہوئے صوبائی محتسب کی تقرری کےلئے دو ماہ کی مدت دے دی ۔