13-04-2018

پشاورہائی کورٹ نے خیبرپختونخواکی صنعتوں سے گیس انفراسٹرکچرسیس کی ریکوری درست قرار دے دی ہے۔

 پشاور ہائی کورٹ کے قائمقام چیف جسٹس وقاراحمدسیٹھ اورجسٹس مسرت ہلالی پرمشتمل بنچ نے خیبرپختونخواکے مختلف کارخانوںکی جانب سے دائردرخواست پر سماعت کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ  ایف بی آر نے سال2011ء کے گیس انفراسٹرکچرسیس کے حوالے سے بقایاجات ریکوری کے نوٹس جاری کئے ہیں جبکہ مذکورہ ایکٹ کو2011ء میں پشاورہائی کورٹ کالعدم قرار دے چکی ہے اور2015ء میں اس حوالے سے نیاقانون بنایاگیااورسابقہ بقایاجات بھی طلب کئے گئے تاہم سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیاتھا کہ جب تک رولزریگولیشن نہ ہوں بقایاجات کی وصولی نہیں ہوسکتی لہذانوٹس کالعدم قرار دئیے جائیں ۔  ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے 2015ء میں اس ایکٹ کو درست قرار دیاتھا جبکہ سپریم کورٹ نے اس کے طریقہ کار کے حوالے سے بات کی ہے ۔ عدالت  درخواست گزاروں کی اسی نوعیت کی رٹ پہلے ہی خارج  کرچکی ہے اور اسی گرائونڈز پردوبارہ رٹ دائرکی گئی ہے جس کاکوئی جوازنہیں بنتا ۔ عدالت نے رٹ درخواستوں پر دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے پر رٹ خارج کرکے ریکوری کے فیصلے کو درست قرار دے دیا۔