December 11, 2019

Khyber Pakhtunkhwa Judicial Academy, Peshawar
BROADCAST TIMING

Morning : 08:00AM to 11:00AM | Evening : 03:00PM to 07:00PM
Call Now: 091-9211654 | Email us: info@radiomeezan.pk

خیبرپختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں خیبر پختونخوا میں ضم شدہ اضلاع میں انضمام کے بعد کے منظر نامے ، قانون سازی اور قانون کی حکمرانی کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

17-09-2019

خیبرپختونخواجوڈیشل اکیڈمی پشاور میں خیبر پختونخوا میں نئے ضم شدہ سول اضلاع /سیشنز ڈویژن: انضمام کے بعد کے منظر نامے میں قانون سازی اور قانون کی حکمرانی کے موضوع پر ایک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد ان اضلاع کے انضمام کے بعد کے منظر نامے اور جوڈیشل سسٹم کو مزید تقویت دینے کے لئے اقدامات سے متعلق جامع سفارشات مرتب کرنا شامل تھا۔

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور اور یو این ڈی پی کے باہمی اشتراک سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار کے مہمان خصوصی رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ خواجہ وجہیہ الدین تھے جبکہ سیمینار میںپی ایس او ٹو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، محمد زیب خان ، ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن پشاور ہائی کورٹ ،عابد سرور، ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی، محمد بشیر ، ڈین فیکلٹی اکیڈمی ،ڈاکٹر شکیل اعظم اعوان ،جوڈیشل اکیڈمی کے دیگر افسران سمیت ضم شدہ اضلاع میں تعینات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن ججزصاحبان ، اسلام آباد ہائی کورٹ ، لاہور ہائی کورٹ ، سندھ ہائی کورٹ ، بلوچستان ہائی کورٹ اور آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے جوڈیشل افسران ،محکمہ پولیس، جیل خانہ جات ،پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ ، محکمہ پروبیشن ، سینئر وکلاء، نامور صحافیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اکیڈمی محمد بشیرنے اپنے خطاب میں شرکاءکو ایک روزہ سیمینارمیں شرکت پر انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے سیمینار کے اغراض ومقاصد بیان کئے۔ان کا کہنا تھاکہ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں جوڈیشل افسران کی تعیناتی کے بعد عدالتی نظام نے کام شروع کر دیا ہے تاہم ان اضلاع میں متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کے بغیرضم شدہ اضلاع میں عدالتی نظام کو مزید تقویت دینا ممکن نہیں ۔ ڈی جی اکیڈمی کا کہنا تھا کہ اس اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اکیڈمی نے ایک روزہ سیمینار کا اہتمام کیا جس میں حکومت ، ججز صاحبان ، وکلاءاور صحافیوں کو مدعو کیا گیا کہ اس اہم موضوع پر سیر حاصل بحث مباحثہ کیا جائے اور ضم شدہ اضلاع میں عدالتی نظام کو درپیش مسائل اور چیلنجز کے سدباب کےلئے سفارشات مرتب کرکے وہاں کے عدالتی نظام کو مستحکم بنایا جا سکے جو ان اضلاع کے عوام کو انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرسکے۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا یہ سیمینارضم شدہ اضلاع میں عدالتی نظام کےلئے روڈ میپ بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

 رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ خواجہ وجہیہ الدین نے مذکورہ اضلاع میں عدالتوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں تعینات ججز کو ٹرانسفر کئے گئے مقدمات سے زیادہ وہاں نئے مقدمات دائر کئے گئے ہیں جس سے ان کی کارکردگی عیاں ہوتی ہے جس کےلئے وہ انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ اکیڈمی میں منعقدہ سیمینار ایک تاریخی اقدام ہے اوران اضلاع میں سسٹم چلنے کےلئے ہم اپنا کردار بطریق احسن ادا کرتے رہیں گے کیونکہ انصاف کی فراہمی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

سیمینار سے یو این ڈی پی کے نمائندے جہانگیر ، پی ایس او ٹو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ، محمد زیب خان ، نامور صحافی سلیم صافی اور محمود جان بابر اور حکومتی نمائندے ایڈیشنل سیکرٹری ہوم سمیت مقررین نے بھی خطاب کیا جبکہ مختلف سیشنز میں سوال جوابات کے علیحدہ علیحدہ سیشنز رکھے گئے جہاں شرکاءنے اپنے خیالات کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے تجاویز بھی پیش کئے۔

سیمینار کے اختتام پر ڈی جی جوڈیشل اکیڈمی نے شرکاءمیں اسناد اور شیلڈ بھی تقسیم کیں۔

Related posts