25-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں معذوروں کے لئے مصنوعی اعضاء تیار کرنے والی ورکشاپ کی بندش کے خلاف دائر رٹ پر ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ  جسٹس یحیی آفرید ی اورجسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خصوصی افراد کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار معذور افراد ہیں اور حکومت نے انیس سو اکاسی میں جرمن حکومت کے تعاون سے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں مصنوعی اعضاء کی ورکشاپ قائم کی جس میں اب تک بیاسی ہزار معذوروں کو اعضاء لگائے جاچکے ہیں جبکہ ہزار ہزار مزید معذور فہرست پر ہیں تاہم خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز نے ہسپتال کے تزئین و آرائش کا کہہ کر انہیں ورکشاپ وہاں سے ہٹانے کو کہا ہے جبکہ ورکشاپ میں جو مشینری نصب کی گئی ہے وہ جرمن ماہرین نے لگائی ہے اور اگر اسے وہاں سے ہٹائی گئی تو دوبارہ اسے لگانے والے موجود نہیں ہے ۔ دوران سماعت ہسپتال کے وکیل نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ انہیں متبادل جگہ فراہم کی جائے گی جس پر فاضل عدالت نے ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز سے جواب طلب کرلیاکہ ہسپتال کی آرائش و تزئین پر کتنا عرصہ لگے گا اور مشینری یہاں سے ہٹانے کے بعد دوبارہ کب لگائے جائے گی ۔