31-01-2017

پشاور ہائی کورٹ نے  خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر شاہد اللہ آفریدی کے تبادلے کے احکامات معطل کرتے ہوئے ہسپتال ڈائریکٹر سے جواب طلب کر لیا ہے۔

جسٹس ابراہیم خان اور جسٹس ایوب خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کی اہلیہ کی جانب سے سرجیکل بی وارڈ میں ٹرینی رجسٹرار کی  پوسٹ پر میرٹ کے خلاف بھرتی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرنے کے بعد درخواست گزار کو انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ نے ڈی ایم ایس کی پوسٹ سے ہٹا کر تین ماہ میں پانچ مرتبہ مختلف عہدوں پر تبدیل کر دیا گیا اور بعد میں درخواست گزار کو ہسپتال سے ہیلتھ ڈائریکٹو ریٹ تبدیل کر دیا گیا ہے جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے لہذا اس اقدام کو کالعدم قرارد یا جائے ۔

عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے تبادلے کے احکامات پر عمل درآمد روک دیا اور ہسپتال انتظامیہ سے جواب طلب کر لیا۔